7 جنوری کی ایک سالگرہ اور گندی ٹوپی، ایک افسانہ
مصنف قدیر حسین تنولی
آج ۷ جنوری کا دن تھا اور اسے شدت سے انتظار تھا کہ کم از کم اس کی بیوی ہی اسے سالگرہ مبارک کا کوئی پیغام موبائیل فون پر بھیج دے مگر اسے بھی دیگر لوگوں کی طرح اس ٹٹ پونجیئے بے روزگار صحافی کی پروا نہیں رہی تھی۔
اہمیت تب کسی کی ہوتی ہے جب یا تو آپ صاحب اختیار ہوں یا آپ کی جیب پیسوں سے بھری ہوئی ہو اور یہاں تو دونوں چیزیں مفقود تھیں۔
ویسے وہ کوئی اپنی سالگرہ،منانے والا بندہ نہیں تھا۔ ۲۵ یا ۲۶ سال تک تواسے اپنی سالگرہ کا دن بھی یاد نہیں رہتا تھا۔ زندگی ایسے ہی گزر جا تی کہ اس کی ملاقات ایک انتہائی جو بصورت لڑکی سے ہو گئی۔ یہ لڑکی اپنی پریشانیوں کا شکار تھی اور شروع میں یہ ٹٹ پونجیا جرنلسٹ اس کی مدد کے لیئے آگے بڑھا تھا۔ ویسے ہمیشہ سے اس کی یہ عادت تھی کی کوئی اگر کسی پریشانی کا شکارہو تو یہ اس کی حتی ا لمقدور مدد کرنے کی کوشش صحافی کے طور پر کرتا تھا۔
آہستہ آہستہ اسے پتہ بھی نہیں چلا اور وہ اس مثل حور لڑکی کے دام الفت میں گرفتار ہو گیا۔ یہی وہ لڑکی تھی جس نے سب سے پہلے اس کی تاریخ پیدائش پوچھی اور پھر اسے یاد بھی رکھا۔
سات سال کا وقت لگ گیا ان کی شادی ہونے میں۔ لڑکی کا والد جو کہ ایک بیوروکریٹ تھااس کا خیال تھاکہ یہ کنگلا اس کی بیٹی کے لئے نا مناسب رشتہ ہے اور اس کنگلے کے بہن بھائیوں کا خیال تھاکہ اگر اس کی شادی اگر یہاں ہو گئی تو نجانے یہ کہاں سے کہاں پہنچ جائے گا۔ سو اس نوجوان کو دونوں طرف سے بھرپور مار پڑی اس آخر کار اس کی شادی ہو ہی گئی جس میں گنتی کے پانچ آدمی شریک تھے۔
مگر اس کا سسر بھی کمال کا تھا اور ماں بھی کمال کی تھی۔
دونوں نے بھرپور کوشش کی کہ اس کا گھر نہ بسے اور دونوں اپنے مقصد میں بھرپور طریقے سے کامیاب ہوئے۔ ایک عدد شیطان بھاوج کو چوٹی کے جادوگروں کا پتہ تھااور اس نے اس شخص کی ماں کو یقین دلایا ہوا تھاکہ یہ جادوگر ہی اس لڑکی کا کانٹا نکال دیں گے اور دوسری طرف اس کے سسر نے قسم اٹھائی ہوئی تھی کہ ان کا گھر بسنے نہیں دینا۔ نتیجہ صاف ظاہر ہے یہ دونوں ہی کامیاب ہوئے اور یہ ٹٹ پونجیا صحافی جس نے اپنے تئیں پوری دنیا کا درد اپنے جگر میں سمویا ہوا تھا یہ ہار گیا۔
آج ۷ جنوری کو نجانے کیوں اسے اپنی سالگرہ کے دن یہ سب کچھ بار بار یاد آ رہا تھا۔ آج تو وہ باالکل تہی داماں تھا۔ اس کے بیوی اس سے ۱۶ سو میل دور شہر میں بیٹھی ہوئی تھی اور وہ خود ایک ہاری ہوئی جنگ لڑنے کے لیئے کسی اور شہر میں بیٹھا ہوا تھا۔
رات کو نیند کی گولیاں کھا کر اسے سونا پڑتا تھا۔ دراصل اس کے جس ایک کمرے کے مکان میں رہاش تھی وہ گلی رات دن جاگتی رہتی تھی۔ شدید سردیوں کی راتوں میں بھی گلی میں رات کو دو بجے بھی غل غپاڑہ مچا رہتا تھا۔ ایسا لگتا تھاکہ مکان سے باہر مچھلی بازار لگا ہوا ہے، سو نیند اپنے طور پر کہاں سے آتی اسے حاصل کرنے کے لئے اسے نیند کی گولیوں کا سہارا لینا پڑتا۔
جب آنکھ کھلی تو اسے یاد آیا کہ آج تو اس کی سالگرہ کا دن ہے مگر کوئی ایسا نہیں ہے کہ اسے پرخلوص وش ہی کر دے۔
ابھی موبائیل فون پر آن لائن اخباروں کی سرخیاں ہی دیکھ رہا تھا کہ اس کے ایک صحافی دوست کا فون آگیا۔ وہ کہنے لگا کیوں نے فلاں ڈیپارٹمنٹ کے دفتر چل کے کچھ خبریں ہی حاصل کر لیں۔ اصل میں یہ شہر دونوں کے لیئے نیا ہی تھا۔ ٹٹ پونجیا اپنی ورڈپریس پر بنی ہوئی ایک ویب سائٹ بھی پچھلے دو سال سے اسے چلا رہا تھا جس سے اسے ابھی تک ایک روپے کی انکم بھی نہیں ہوئی تھی۔ گوگل ایڈسینسن نے اس کی ویب سائٹ کو اپرو تو کر دیا تھامگر پہلے ۱۰۰ ڈالر کمانے کا تھریش ہولڈ جیسے اس کے لیے نانگا پربت کی چوٹی بنا ہوا تھا۔ اوپر سے اس کی ماں اور بہن بھائیوں کا خیال تھا کہ اس کا سسر اس کی لاکھوں روپے کی مدد کر رہا ہے سو اس وسیع و عریض خزانے پر کچھ ان کا بھی حق ہے۔ ٹٹ پونجیئے کی زندگی عذاب میں تھی مگر کوئی اس کا درد بٹانے والا اس دنیا میں موجود نہیں تھا۔
اپنے دوست کو اس نے یقین دلایا کہ وہ دو گھنٹے میں تیار ہو کر متعلقہ دفتر پہنچ جائے گا۔
جلدی جلدی اٹھ کر اپنے لئے چائے پراٹھے کا ناشتہ گیس سیلنڈر پر تیار کیا۔ جلد ی سے وضو کر کے نماز پڑھی مگر ٹائم تو لگنا ہی تھا سو جب وہ گھر سے نکلنے لگا تو دو گھنٹے کی دی ہوئی ڈیڈ لائن پوری ہو چکی تھی۔ سواری کے لئے اس کے پاس صرف دو پاؤں ہی تھے جو ممکنہ حد تک ہی تیز چل سکتے تھے۔
دوست کا فون آ گیا اور حسب توقع اس نے پہلا سوال یہی کیا کہ کہاں پہنچے ہو۔ اگر کو چلاک آدمی ہوتا تو بتاتا کہ راستے میں ہو ں اور بس پہنچنے والا ہوں مگر چالاکی اس کنگلے کے پاس سے بھی ہو کر نہیں گزری تھی سو اس نے باالکل سچ بتا دیا کہ ابھی کمرے سے نکلا ہوں اور کچھ دیر میں پہنچ جاؤں گا۔ اس پر اس کا دوست تپ گیا۔
وہ کہنے لگا میں تمہارا آدھا گھنٹہ سے دفتر کے سامنے کھڑا انتظار کر رہا ہوں اور تم ابھی گھر سے نکل رہے ہو۔
دوست کی مزید ترش باتوں سے بچنے کے لئے اس نے ٹیکسی ہائر کی اور ۱۰ منٹ بعد متعلقہ دفتر پہنچ گیا۔ گاڑی سے اترتے وقت گرم ٹوپی جو اس کے ہاتھ میں پکڑی ہوئی تھی وہ گر کر ڈرینج کی کھلی نالی میں جا گری۔ اس شدید سردی کے دنوں میں سردی سے بچاؤ کے لیئے یہ ٹوپی اس کی اچھی خاصی مددگار تھی۔ ناچار اسے گری ہوئی گرم ٹوپی کو گندے پانی سے نکالا اور ایکسائز دفتر کے باہر بیٹھے ہوئے ایک ایجنٹ سے سے اس نے شاپنگ بیگ مانگا تا کہ اس میں اس ٹوپی کو محفوظ کر سکے۔
دونوں دوستوں کی گفتگو گرما گرمی سے شروع ہوئی مگر دونوں کو احساس تھا کہ ان باتوں سے زیا دہ ان کے سروائیول کی جنگ ہے سو مزید کسی تلخ کلامی سے بچنے کے لئے دونوں جا کر ڈائیرکٹر سے جا کر اس حالت میں ملے کہ ٹٹ پونجیئے صحافی کے ہاتھ میں وہ شاپر پکڑا ہوا تھا جس میں اس کی گندی ٹوپی رکھی ہوئی تھی۔
چونکہ وقت کم تھاتو دونوں بعد میں قریب میں واقع دیگر سرکاری دفاتر میں بھی گئے۔انہی کاموں میں شام ہو گئی اور دونوں نے اپنے اپنے گھر جانے کا فیصلہ کیا۔
کنگلا صحافی اپنی سالگرہ کا دن گزار کر ٹوپی رکھے شاپر کو ہاتھ میں پکڑے اپنے کمرے میں واپس آ گیا۔ وہ کمرا جہاں کبھی رات نہیں ہوتی اور جہاں شائد کبھی دن بھی طلوع نہیں ہوتا، کم از کم ان کے لئے جن کی جیبیں خالی ہیں۔
7 جنوری کی ایک سالگرہ اور گندی ٹوپی، ایک افسانہ
